”کھجور اور اولاد نرینہ“

محترم حکیم صاحب السلام علیکم! عرض ہے کہ لکھنا وغیرہ تو مجھے آتا نہیں

بس آپ کی خصوصی حوصلہ افزائی کی وجہ سے کچھ تحریر کرنے کی جرأت کررہا ہوں اور حضرت آپ کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اسی طرح اپنی مخلوق کی خدمت آپ سے لیتے رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اپنا کنبہ کہا ہے اور آپ کی اتنی بڑی کوشش میں ایک تنکا میرا بھی شامل ہوجائے۔کھجور اور اولاد نرینہ:بیٹی اللہ کی رحمت اور بیٹا اللہ کی طرف سے نعمت ہوتا ہے اور عموماً جن والدین کے ہاں اکثر بیٹیاں ہی پیدا ہوتی ہیں‘ انہیں خواہش ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں نعمت سے بھی والدین یعنی اولاد نرینہ عطا فرمائیں تو اس سلسلہ میں طب جدید کے ماہرین کے بار بار کے تجربات سے معلوم ہوا ہے کہ دائیں طرف کے حفیہ الرحم سے جو بیضہ اثنی خارج ہوتا ہے وہ بار آور ہونے سے حمل نرینہ ہوگا کیونکہ دائیں طرف گرم ہوتی ہے اور بائیں طرف کے حفیۃ الرحم سے جو بیضہ اثنی خارج ہوگا وہ بارآور ہونے سے حمل مادینہ ہوتا ہے۔قدیم اطباء بھی اسی نظریہ کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ دائیں طرف اولاد نرینہ کیلئے مخصوص ہے کیونکہ دائیں طرف زیادہ گرم رہتی ہے۔ آسان الفاظ میں اگر دوران حمل عورت کو ایسی غذائیں دی جائیں جس سے عورت کو رحم میں بچہ دانی گرم اور طاقتور ہو تو انشاء اللہ امید کی جاسکتی ہے کہ عورت اولاد نرینہ پیدا کرے گی۔اس سلسلہ میں کھجور ایسی غذا ہے جو عورت کی رحم (بچہ دانی) کو گرم بھی رکھتی ہے اور طاقت بھی دیتی ہے اور دوران حمل کمزوری بھی دور کرتی ہے اگر عورت کو دوران حمل صبح و شام تین تین یا پانچ پانچ کھجوریں کھلائیں جائیں یا حسب ہاضم زیادہ بھی کھاسکتی ہیں لیکن یاد رہے کہ کھجور طاق اعداد میں کھائے کیونکہ یہ سنت رسول ﷺ ہے اور کھجور طاق اعداد میں نقصان بھی نہیں دیتی۔میرے ذاتی تجربات میں بہت سی مریضوں کو جن میں اکثر ایسی خواتین بھی تھیں جن کی پہلی بیٹیاں تھیں انہیں یہ علاج بتایا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اولاد نرینہ سے نوازا۔ کھجور کو پہلے چار پانچ ماہ لازمی کھانا ہے اور اگر پورے نوماہ تک استعمال کی جائیں تو عورت ناصرف دوران حمل کی کمزوریوں سے محفوظ رہتی ہے بلکہ بچہ بھی صحت مند پیدا ہوتا ہے۔ دوران حمل کھجور کھائیں اللہ تعالیٰ سے اولاد نرینہ حاصل کریں اور ’’عبقری‘‘ کیلئے ہاتھ اٹھائیں۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.