”کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی علامات اور علاج۔“

”کیلشیم اور وٹامن ڈی کی کمی علامات اور علاج۔“

آپ کا جسم صحت کے بارے میں کافی معلومات فراہم کرتا رہتا ہے

تاہم آپ کو درست وقت پر اسے سمجھنے اور جاننے کی ضرورت ہے۔جس سے آپ جان سکتے ہیں کہ جسم کے اندر کیا چل رہا ہے اور اس کی ممکنہ وجہ کیا ہوسکتی ہے۔اور وٹامن ڈی وہ اہم جز ہے جس کی کمی لوگوں کو کافی بھاری پڑسکتی ہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر افراد اس کا شکار ہوتے ہیں۔

وٹامن ڈی ہمارے جسم میں کسی ہارمون کی طرح کام کرتا ہے اور کسی اور وٹامنز کے مقابلے میں وٹامن ڈی کے لیے تمام خلیات ایک ریسیپٹر کی طرح کام کرتے ہیں۔ آپ اپنے جسم میں اس وٹامن ڈی کی کمی کو سورج کی روشنی کے ذریعے دور کرسکتے ہیں تاہم مارکیٹ میں اس کی ادویات بھی موجود ہیں۔یہ وٹامن انسانی ہڈیوں کی صحت اور مدافعتی نظام کے لیے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی کی چند علامات درج ذیل ہیں۔

اگرچہ ابھی تک ایسے شواہد موجود نہیں کہ وٹامن ڈی نئے کورونا وائرس کا علاج یا روک تھام کرسکتا ہے، مگر برطانیہ کے 3 اہم ترین طبی اداروں نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ مناسب مقدار میں وٹامن ڈی کے حصول کو سورج، سپلیمنٹس یا خوراک کے ذریعے یقینی بنائیں۔سائنٹیفک ایڈوائزری کمیشن آن نیوٹریشن، نیشنل انسٹیٹوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلینس اور رائل سوسائٹی نے جون میں اپنی اپنی رپورٹس جاری کی تھیں جس میں کورونا وائرس اور وٹامن ڈی کے حوالے سے تفصیلات دی گئی تھیں۔

ان تینوں اداروں نے زور دیا کہ لوگوں کو وٹامن ڈی کی تجویز کردہ مقدار کے حصول کو یقینی بنائیں، جس سے نہ صرف کورونا وائرس کی شدت میں ممکنہ تحفظ مل سکے گا بلکہ یہ صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ وٹامن ڈی کے چند اہم ترین افعال میں سے ایک جسمانی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانا ہے، تو اگر وٹامن ڈی کی کمی کا سامان ہو تو عام انفیکشن یا وائرسز کے حملے کے بعد ٹھیک ہونے میں بھی کافی وقت لگ جاتا ہے۔
درحقیقت وٹامن ڈی کی کمی کے نتیجے میں سانس کی نالی کے انفیکشن جیسے نزلہ زکام اور نمونیا وغیرہ اکثر شکار بنانے لگتے ہیں۔ ڈپریشن اور چڑچڑا پن کے درمیان تعلق ہے جس کے پیچھے متعدد جسمانی اور نفسیاتی عناصر ہوتے ہیں، ایسے سائنسی شواہد سامنے آئے ہیں کہ وٹامن ڈی کی کمی اور ڈپریشن کے درمیان تعلق موجود ہے، خصوصاً معمر افراد میں۔

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ڈپریشن کی شکار خواتین کو جب وٹامن ڈی کا سپلیمنٹ استعمال کرایا گیا تو اس میں بہتری آنے لگی۔ ایک اور تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ موٹاپے کے شکار افراد میں اگر وٹامن ڈی کی کمی ہو تو ان میں ڈپریشن کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔ ہر وقت تھکاوٹ طاری رہنے کے پیچھے متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں اور وٹامن ڈی کی کمی بھی ان میں سے ایک ہے۔ اگر جسم میں کیلشیم کی کمی ہو جا تی ہے تو انسان کی صحت خراب ہو جا تی ہے تو ہمیں ان باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.