”گردن کے پٹھوں میں درد اور اکڑن کیوں ہو تی ہے؟ کا میاب اور منفرد علاج۔“

ہر ڈاکٹر اپنے کلنکس پر سب سے زیادہ جس مر ض کی شکایت سنتا ہے

وہ گردن اور کندھوں کا کچھاؤ ہے۔ بعض مریض تو اسے باقی علامتوں کے ساتھ ملا کر بازن کرتے ہںم مگر بعض مریضوں کی ڈاکٹرکے پاس آنے کی وجہ ہی کندھوں کا کھچاؤ ہوتی ہے۔ اس عام ترین علامت کی آخر وجہ کاض ہے؟ کاک یہ کسی بما ری کی ابتدائی علامت ہے یا یہ خود ایک بمااری ہے؟گردن حسن پرستوں کی آرزو، شاعروں کا موضوع سخن اور قصائواں کا تختہ مشق ہی نہں مڈےیکل سائنس مںا بھی اسے خاص اہمتو حاصل ہے۔ سمجھنے کے لئے اسے اگلے اور پچھلے حصے مںب تقسمہ کاد جاسکتا ہے۔ اس کے اگلے حصے مںی زندگی رواں ہے یینل کسی بھی انسان کو زندہ رہنے کے لئے جن چزےوں کی ضرورت ہے ان کی گزر گاہں گردن کے اگلے حصے مںن مجتمع ہں ۔ سب سے آگے جو سخت چزے نظرآتی ہے یا محسوس ہوتی ہے وہ ہے ہوا کا پائپ یینص ٹریار (Trachea)۔ اس سے ہم نہ صرف سانس اندر اور باہر نکالتے ہں بلکہ تمام قسم کی آوازیں بھی اسی سے نکلتی ہںی اور آواز نہ صرف زندگی ہے بلکہ وجہ زندگی بھی ہے۔ سانس کی نالی کے بالکل پچھے خوراک کی نالی اور اس کے دائںر اور بائں خون کی شریانں اور وریدیں ہں جو دماغ ، سر، چہرے وغرےہ کو خون مہال کرتی ہںر۔ گردن کے پچھلے حصے کی اہمتن سے بھی انکار نہںی کاد جاسکتا۔یہ ایک مضبوط سسٹم ہے جو ریڑھ کی ہڈی اور گوشت کے حسن ترین امتزاج سے بنا ہے۔ یہاں ریڑھ کی ہڈی کا ابتدائی اور سب سے محترک حصہ ہوتا ہے جو گنتی کے سات مہروں پر مشتمل ہوتا ہے۔گردن کے اس پچھلے حصے کا کام سر کو اپنی جگہ پر قائم رکھتا ہے۔ یہ کام اس مںو موجود مخصوص مہروں کی وجہ سے اور ان مہروں کے گرد لگے ہوئے مسلز کی وجہ سے ہے۔ مسلز گردن مںق کئی تہوں مںم ہوتے ہںخ سب سے باہر مضبوط اور بڑے مسلز جو سرکے پچھےو حصے سے شروع ہو کر گردن کے دونوں اطراف چمٹتے ہوئے کندھوں اور کمر کے ساتھ جڑے ہوتے ہںز۔ یہاں سے شروع ہو کر گردن کے دونوں اطرف چمٹتے ہوئے کندھوں اور کمر کے ساتھ جڑے ہوتے ہںے۔ اس برےونی تہہ کے بعد اندر کئی تہںہ ہوتی ہںے جو ہمںر سر کو کسی بھی طرف حرکت دینے مںب مدد دییم ہںت۔ گردن درد کی ایک وجہ اپنے بستر پر نہ سونا بھی ہے۔ ڈاکٹرز ہسپتالوں کی 24-24گھنٹے کی ڈیوٹوڑں کے دوران کبھی کرسویں پر کبھی مزے پر کبھی مزنوں کی درازوں مںی سر رکھ کر سوئے پائے جات ہںس یا کبھی لمبے ٹرین، گاڑی یا جہاز کے سفر مںں سوتے ہوئے گردن کو بہت بے آرام حالت مںی رکھتے ہںز جو گردن کے درد کا باعث بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ جسم مںں پانی اور نمکالت کی کمی کی وجہ سے جہاں سارا جسم درد کرتا ہے وہںا گردن کو بھی بل پڑ سکتا ہے۔ ان تمام افراد سے گزارش ہے کہ اپنا خاپل رکھںل۔ کام کو وقفے وقفے سے کریں ۔ خود کو ذہنی دباؤ سے دور رکھںں ،مسکرانا سںھا ، خوراک اور آرام کا خاص خایل رکھںف۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.