”دل کی نالیوں کوصاف کرنے کاجادو“

دل کی بیماری اس وقت ہوتی ہے جب دل کے عضلات تک خون پہنچانے والے شریانیں جن کو قلبی شریانوں سے موسوم کیا گیا ہے،

یہ اپنے اندر جمع ہونے والے چکنے مادوں سے بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔امراضِ قلب میں قلبی شریانی بیماری جسے Coronory diseaseکہا جاتا ہے کو نمایاں اہمیت حاصل ہے۔ یہ بیماری اس وقت لاحق ہوتی ہے جب دل کی شریانوں کے اندر چربی یا چپکنے والے مادے جمع ہونے لگتے ہیں اور اس رکاوٹ کی وجہ سے دل کے پٹھوں اور ٹشوز کو خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔آپ کا دل انسانی کی بند مٹھی جتنا بڑا جسم کا اہم ترین حصہ ہے جو ایک پمپ کی طرح کام کرتے ہوئے آکسیجن سے بھرپور خون آپ کے جسم کے ہر حصے میں پہنچاتا ہے۔ یہ خون جسم کے مختلف اعضاء تک شریانوں ( خون کی نالیوں) کے ذریعے پہنچتا ہے اور پھر دل تک ’’نالیوں‘‘ یعنی وینز کے ذریعے کے راستے واپس آتا ہے۔ دل کو اپنا کام جاری و ساری رکھنے کے لیے خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ دل کی بیماری اس وقت ہوتی ہے جب دل کے عضلات تک خون پہنچانے والے شریانیں جن کو قلبی شریانوں سے موسوم کیا گیا ہے، یہ اپنے اندر جمع ہونے والے چکنے مادوں سے بند ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ان قلبی شریانوں کی اندرونی دیواروں میں مادہ جمع ہونے سے خون کے گزرنے کا راستہ بند ہو جاتا ہے۔ یہ مادہ خون میں شامل کولیسٹرول سے بنتا ہے جسے پلیک(Arterial Plaque) کہتے ہیں۔یہ پلیک شریانوں کو تنگ کر دیتا ہے،جس کی وجہ سے خون گزرنے کا عمل سست ہونے کے بعد آہستہ آہستہ رکنے لگتا ہے اور آخر میں ہارٹ اٹیک کی وجہ بنتا ہے۔انہی چپکنے والے مادوں کی وجہ سے شریانوں کی دیواروں کو اہم غذائیت کی فراہمی بھی رک جاتی ہے،جس کے باعث شریانوں کی لچک ختم ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر بلڈ پریشر بھی بڑھنے لگتا ہے ۔ہائی بلڈ پریشر ،دل کی بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔اگر مریض کی شریانیں جزوی طور پر بند ہوں تو وہ انجائنا کی تکلیف محسوس کر سکتا ہے۔یہ سینے میں شدید درد کی کیفیت ہوتی ہے اور آہستہ آہستہ درد پورے جسم تک پھیلنے لگتا ہے۔ اس خطرے کو ابھارنے والے دیگر عوامل میں غیر صحت بخش خوراک، ورزش سے جی چرانا ،ذیا بطیس ،ہائی بلڈ پریشر اور سگریٹ نوشی شامل ہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں دل کی بیماریاں اور ہارٹ اٹیک سے ہونے والی اموات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔جس کی بڑی وجہ ہمارا غیر صحت مندانہ طرزِ زندگی اور چکنائی سے بھر پور غیر صحت بخش غذائوں کا استعمال ہے۔چکنائی بڑھنے کے سبب دل کی شریانیں آہستہ آہستہ بند تو ہونے لگتی ہیں لیکن دل کا دورہ اس وقت پڑتا ہے جب قلبی شریان پوری طرح بند ہو جائے۔جب ایک پلیک جس کی وجہ سے شریان پہلے ہی بند ہو رہی ہوتی ہے ٹوٹتا ہے یا اپنی جگہ سے اکھڑ جاتا ہے تو اس پلیک کے اردگرد خون گاڑھا ہونے لگتا ہجوں جوں خون گاڑھا ہوتا جاتا ہے اس کی رفتار اسی قدر سست پڑتی جاتی ہے۔ جب دل کے پٹھوں اور ٹشوز کو اس شریان کے ذریعے خون کے ساتھ فراہم ہونے والا آکسیجن نہیں ملتا تو انسانی طبیعت میں بگاڑ شروع ہوتا ہے۔شریانوں کو کھولنے کے لیے دواؤں کا استعمال کروایا جاتا ہے جس سے خون پتلا ہو سکے۔ اس سے جما ہوا خون نالیوں سے صاف ہونے لگتا ہے۔ اکثر ضرورت پڑنے پر چھوٹا یا بڑا آپریشن بھی کرنا پڑتا ہے۔ہارٹ اٹیک دل کو کتنا نقصان پہنچاتا ہے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ علاج شروع کرنے سے پہلے دل کے پٹھوں کا کتنا حصہ مردہ ہو چکا ہے۔ دل کا جتنا کم حصہ متاثر ہوا ہو گا، مریض کے زندہ بچنے اور صحتیاب ہونے کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.