”نظرکی کمزوری آنکھوںکا دھندلاپن سب ختم“

مارے بزرگوں نکئی فارمولے بنائے ہیں

مثلاً صحت و تندرستی حاصل کرنے کا فارمولہ استخارے کا فارمولہ تسخیر کافارمولہ حافظہ روشن کرنے کا فارمولہ بے پنا کشش و خوبصورتی مقناطیسیت اور جاذبیت حاصل کرنے کا فارمولہ کروڑ پتی بننے کا فارمولہ وغیرہ وغیرہ۔۔۔ آج میں آپ کے سامنے نظر کی کمزوری دور کرنےکا فارمولہ بتانا چاہتا ہوں کہ نظر کی کمزوری لوگوں کا ایک بہت بڑا اور اہم مشترکہ مسئلہ ہے۔ میں آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ میری نظر بذات خود بچپن سے ہی کمزور تھی۔ ان دنوں میرے اوپر پروفیشنل کرکٹر اور ٹیسٹ پلیئربننےکا جنون سوار تھا

لیکن اس وقت مجھے جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش رہا وہ نظر کی کمزوری کا تھا۔میری دور کی نظر کمزور تھی اور عینک کےلینز کا نمبر 2.25تھا۔ چونکہ میری ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ میں اوپنر بنوں لیکن عینک کے ساتھ کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔سو میں نے بہت سی کتابیں پڑھیں یوگا کی مشقیں کیں ڈاکٹروں اور حکیموں کے نسخے استعمال کیے ایک عرصہ تک سونف مصری اور بادام کھاتا رہا آنکھوں میں عرق گلاب بھی ڈالتا رہا۔ جس نےجو بھی اچھا فارمولا بتایامیں نے اس پر عملدرآمد کیا لیکن مسئلہ جوں کا توں ہی رہا کہتے ہیں جب انسان کوشش کرتا ہے

تو قدرت کی طرف سے بھی مدد حاصل ہوجاتی ہے۔ میرا یہ پکا یقین تھا کہ انسان اس دھرتی پر بعد میں آیا ہے لیکن ہر بیماری کا علاج اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی زمین پر پیدا کررکھا ہے۔بنی نوع آدم علیہ السلام نے جب زمین پر پیدا ہونا شروع کیا تو وسائل اور جڑی بوٹیاں پہلے سے ہی زمین کے گلوب پر موجود تھیں۔ اس لیے میں اکثر سوچتا کہ نظر کی کمزوری کا بھی علاج ضرور ہوگا۔ میں بڑے تسلسل کے ساتھ نظر کی کمزوری کے علاج کیلئے تگ ودو کرتارہا۔ شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے پاکستان کے مشہور و معروف سابق ٹیسٹ کرکٹر معروف سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید ٹیسٹ کرکٹررانا نوید الحسن اور سابق سیکرٹری سپورٹس اشرف خان سے بھی

میری ان باتوں کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔ ایک وقت وہ بھی آیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نظر کی کمزوری سے نجات بخشی اور میری عینک اتر گئی۔ جب میں اسلام آباد شفٹ ہوا تو مرغزار کرکٹ گراؤنڈ میں اسلام آباد جمخانہ کرکٹ کلب کی طرف سے کھیلنا شروع کیا۔ اُس وقت اس وقت کے مشہورکالم نگار و اینکر پرسن طلعت بھائی ہمارے کلب کے فاسٹ باؤلر ہوا کرتے تھے۔طلعت بھائی بہت تیز بال کراتے تھے اور میرے لیے یہ ایک حیرت انگیز اور خوشگوار احساس تھا کہ میں ان کی تیز ترین بال بغیر عینک کے پُل کردیا کرتا تھا کیونکہ میری عینک اترچکی تھی۔

ان تمام باتوں کو بتانے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ دراصل نظرکی کمزوری کا علاج مکمل طور پر ممکن ہے۔ اگر کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں کچھ مشقیں کی جائیں اور علاج کرلیا جائےتو نظر کی کمزوری لامحالہ ٹھیک ہوسکتی ہے۔مندرجہ ذیل علاج مروجہ طریقوں سےہٹ کر ہے۔ نظر کی کمزوری دور کرنے کا فارمولا یہ ہے:موٹے اور چکنے کاغذ پر دو گول دائرے بنائے جائیں۔ ایک دائرےمیں سرخ رنگ بھرلیں اور دوسرے میں نیلا رنگ۔ اب اس کاغذ کو کسی گتے ہارڈبورڈ فارمیکا وغیرہ پر چپکا کر سامنے آنکھوںکے برابر دیوار وغیرہ پر لٹکالیں۔یہ خیال رہےکہ دائروں والا یہ چارٹ آنکھوں کے بالکل سامنے لیول پر لٹکا ہوا ہو۔

اب پہلے سرخ رنگ کے دائرے کو دس منٹ دیکھیں اور پھر نیلے رنگ کے دائرے کو دس منٹ۔ کوشش کریں کہ دیکھتے ہوئے آنکھ نہ جھپکے۔ تاہم پہلے پہل آنکھ جھپک بھی جائے تو کوئی حرج نہیں۔بس آپ دائروں کو دیکھنے کی پریکٹس کرتے رہیں۔ دوران پریکٹس آنکھیں جھپکتی ہوں توجبر نہ کریں آپ صرف ہلکی پھلکی کوشش جاری رکھیں کہ ٹکٹکی بندھی رہے۔ چند ہی روز میں نظر میں ٹھہراؤ پیدا ہونا شرو ع ہوجائے گا۔ یہاں تک کہ دس دس منٹ آپ پلک جھپکائے بغیردائروں کو دیکھ سکیں گے۔دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ طلوع آفتاب سے پانچ منٹ قبل کسی ایسی جگہ کھڑے ہوجائیں یا بیٹھ جائیں کہ جہاں سے سورج نکلتا ہوا نظر آئے۔

اب سورج نکلنے والی فضا کو دیکھتے رہیں جونہی سورج کی نارنجی ٹکیہ افق سےنمودار ہونا شروع ہو تو اس کو تیس سیکنڈ تک دیکھیں اور پھر وہاں سےہٹ جائیں۔ سورج افق سےبلند ہوجائے تو اسے ہرگز نہ دیکھیں۔ سورج کی نارنجی ٹکیہ کو آدھ منٹ (30 سیکنڈ) سے زیادہ دیکھنا قطعی منع ہے۔ جس روز بادل ہوں اس روز صرف اس فضا کو دیکھتے رہیں کہ جہاں سے سورج نکلنےکی جگہ ہے۔ طلوع آفتاب کے وقت سورج کی شعاعیں بہت نرم ہوتی ہیں تاہم ایک منٹ کے بعد تیز ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ نرم شعاعیں نظر کو صحت دیتی ہیں

لیکن جب لہروں اور شعاعوں میں تیزی آجاتی ہے تو یہ نقصان دیتی ہیں۔دراصل ہمارے اندر نظر کا فوکس خراب ہوجاتا ہے عینک کے لینز اسی فوکس کو قائم کردیتے ہیں جس کی وجہ سےنظر ٹھیک آنے لگتا ہے۔ لیکن اگر ہم کسی بھی طریقے سےنظر کے فوکس کو ٹھیک کرلیں تونظر کی کمزوری بھی ٹھیک ہوکر عینک اتر جاتی ہے۔ تیسرا کام یہ کریں کہ صبح نو دس بجے تا شام تین چار بجے تک آسمانی شیشوں والی عینک استعمال کریں۔ عینک نظر کی ہو یا سادہ لیکن شیشوں کارنگ بالکل ہلکا آسمانی ہو۔

اگر چوٹ لگنے شوگر یا سفید اور کالے موتیے کی وجہ سے نظر کمزور ہوتو اس کےساتھ ساتھ یہ علاج بھی کریں پانی کو ابال کر ائرٹمپریچر پر ٹھنڈا کرلیں۔ دو بوتلیں لےلیں ایک کا رنگ نیلا ہو اور دوسری کا سبز۔دونوں کو پہلے گرم پانی سے اور پھرٹھنڈےپانی سے دھو کر ابلا ہوا ٹھنڈا پانی ان میں ڈال دیں۔ بوتلوں کو دھوپ میں لکڑی کی تختی پر صبح دس گیارہ بجے سے شام تین چار بجے تک رکھ دیں۔ سبز اور نیلے رنگ کی شعاعوں کا پانی تیار ہوجائے گا۔

نیلے رنگ پانی سے صبح اور سبز رنگ پانی سے رات کو آنکھوں کو اچھی طرح دھوئیں۔ چلو میں پانی لے کر آنکھیں کھولیں اور بند کریں بار بار۔ چار روز اس رنگین شعاعوں کے پانی کو استعمال کریں اور پھر دوبارہ تیار کرلیں۔یہ ہر قسم کی نظر کی کمزوری سفید اور سیاہ موتیے اور آنکھوں کے دوسرے امراض کا علاج ہے۔ اگر 180 روز اس علاج پر عمل کرلیا گیا تو عینک اتر جائے گی اورنظر کے دوسرے امراض بھی ٹھیک ہوجائیں گے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.