لیموں سے گردے کی پتھری کا علاج

لیموں سے گردے کی پتھری کا علاج

گردے میں پتھری کی صورت میں سب ہی لیموں پانی کے استعمال پر زور دیتے آئے ہیں اور اب سائنسی طور پر بھی اسے مفید و معاون قرار دے دیا گیا ہے۔ ماہرین صحت گردے کی پتھری میں مبتلا مریضوں کو ’لیموں تھراپی‘ کا مشورہ دے رہے ہیں۔طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ لیموں پانی گردے میں پتھری بننے کے عمل کو پہلے سے ہی روکتا ہے اور اگر پتھری ہو تو اس کے بڑھنے کی رفتار کو بھی سست کرتا ہے۔اس ضمن میں یہ مشروب جادوئی اثرات رکھتا ہے یہاں تک کہ امریکی ماہر ڈاکٹر راجر سر اور جامعہ وسکانسن میں یورو لوجی کے پروفیسر اسٹیون ناکاڈا لیموں پانی کو تمام دواؤں سے بھی مؤثر قرار دیتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ لیموں میں تمام پھلوں کے مقابلے میں سٹرک ایسڈ کی زیادہ مقدار پائی جاتی ہے اور یہ تیزاب گردے کی پتھریوں کا مؤثر سدِ باب کرتا ہے۔ اس عمل کو اب لیموں تھراپی بھی کہا جانے لگا ہے۔دوسری جانب سپلیمنٹ کے طور پر مریض کو پوٹاشیم سائٹریٹ دیا جاتا ہے لیکن یہ بھی لیموں کے سامنے بہت کم اثر رکھتا ہے۔ لیموں پانی صفائی کا عمل کرتے ہوئے گردوں کو مضر اثرات سے پاک رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے استعمال سے پانی زیادہ پیا جاتا ہے اور مریض روزانہ ڈیڑھ سے دو لیٹر تک پانی پیشاب کی صورت میں جسم سے خارج کرتا ہے جو صحت مند گردوں کے لئے مناسب مقدار ہے اگر کوئی سپلیمنٹ یا دوا دی جائے تو اس کے بھی عین یہی اثرات ہوتے ہیں۔دن میں سٹرس کی سطح کو برقرار رکھ کر پتھری کو دور کیا جاسکتا ہے اور یہاں لیموں پانی ایک قدرتی دوا کی صورت میں ہماری مدد کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ضروری ہے کہ آدھا کپ لیموں سات کپ پانی میں ملایا جائے اور اس میں حسبِ ذائقہ شہد بھی ملایا جاسکتا ہے،ل مریض کا گوش ت اور نمک کے بے جا استعمال سے پرہیز بھی ضروری ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال اسے بہتر کرتا ہے کیونکہ غذائی احتیاط سے بھی گردوں کو تندرست رکھا جاسکتا ہے۔گردے میں پتھری سے مریض کمر اور گردوں میں درد، قے ہونے سمیت پیشاب میں تکلیف اور خ ون آنے کی تکالیف میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس کی شدید علامات میں بخار اور خون کا انفیکشن بھی ہوسکتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.