پانی کی کمی ہونےسے جسم میں کیا ہوتا ہے؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ پانی جیسی عام لگنے والی چیز کی جب جسم میں کمی ہوتی ہے

تو اس کے کیا کیا سنگین اثرات ہوسکتے ہیں۔منہ میں سے بدبو آنا زیادہ تر لوگوں کو لگتا ہے کہ کچھ کھالینے سے یا صرف برش نہ کرنے کی وجہ سے منہ میں بدبو آنے لگتی ہے لیکن منہ میں آنے والی بدبو کا سبب جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے ۔ڈی ہائیڈریشن ہونے پر ہمارے منہ میں موجود سلائیوا کی کمی ہونے لگتی ہے جس سے کہ ہمارا منہ سوکھا لگنے لگتا ہے ایسا ہونے پر منہ میں موجود بیکٹیریا کی مقدار بڑھنے لگتی ہے۔اور آہستہ آہستہ منہ سے بدبو بھی آنا شروع ہو جاتی ہے اکثر پانی کم پینے والوں کو منہ میں سے آرہی بدبو کا بالکل بھی پتہ نہیں چلتا جب بھی کسی آدمی کو یورین کرتے وقت جلن محسو س ہوتی ہے اور اس دوران یورین کا کلر بالکل پیلا ہوجائے تو اس کا مطلب ہے جسم میں پانی کی کمی ہے ہمارا جسم پیشاب اور یورین کے ذریعے لگاتار جسم میں موجود ٹاکسنز کو باہر نکالتا رہتا ہے جب ہم اچھی مقدار میں پانی نہیں پیتے تو ہمارے جسم میں ٹاکسنز کی مقدار بڑھنے لگتی ہے جس کا سیدھا ہی اثر ہماری کڈنی اور بلیڈر پر پڑتا ہے۔یورین زیادہ ایسیڈک ہوجاتا ہے اور پیشاب کرنے کے دورا جلن محسوس ہوتی ہے کم پانی پینے والے لوگوں کو کڈنی سٹو ن اور یورین سے جڑی بیماریاں ہونے کے چانسز بھی کافی بڑھ جاتے ہیں جوڑے میں درد اور کڑن :پانی کم پینے سے کمر جوڑ گردن پیٹ اور سبھی جوڑوں میں اکڑن اور درد کا مسئلہ شروع ہوجاتا ہے ۔ کم پانی پینے والے لوگ جب مسلسل ایک ہی پوزیشن پر بیٹھے رہتے ہیں تو ان کی باڈی میں بہت جلدی اکڑن آجاتی ہے اور درد بھی ہونے لگتا ہے۔وہیں پانی زیادہ پینے والے لوگوں کے اندر زیادہ لچک ہوتی ہیں ہمارے جوڑے کے درمیان فلوئیڈ موجود ہوتا ہے جو کہ جوڑوں کے درمیان گریس کا کام کرتا ہے پانی کم ہونے کی وجہ سے اس فلوئیڈ کی مقدار جس میں کم ہونے لگتی ہے اور آگے چل کر آرتھرائٹس اور جوائنٹ پین کا مسئلہ شروع ہوجاتا ہے جب جس میں پانی کی کمی ہوتی ہے کئی بار ہمیں پیاس بھی بھوک کی طرح محسوس ہونے لگتی ہے کھانا کھانے کے تھوڑے وقت بعد بھی جب دوبارہ بھوک لگے تو ایسا ہوسکتا ہے کہ وہ بھوک نہیں بلکہ پیاس لگنے کا احساس ہو ۔ایسی صورت میں کئی لوگ اور ویٹنگ کا شکار ہوجاتے ہیں۔تھکان سستی اور لمبے وقت تک بیمار رہنا :پانی کی کمی ہونے پر آدمی زیادہ سست اور تھکا ہوا محسوس کرتا ہے ۔جب جسم کے سبھی حصوں میں پانی کی کمی ہونے لگتی ہے۔تو ہمارا جسم خ ون میں موجود پانی کو استعمال کرنے لگتا ہے ایسا ہونے پر خ ون میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے اور خ ون آہستہ آہستہ گاڑھا ہونے لگتا ہے اور گاڑھے خ ون سے بلڈ پریشر کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے اور بخار بھی آنے لگتا ہے اسی وجہ سے پانی کم پینے والے لوگوں کو سستی اور آلس بھی آنے لگتا ہے روکھی سوکھی جلد پانی کی کمی کی علامات میں سے ایک ہے پانی کی زیادتی اور کمی کا اندازہ جلد کے ذریعے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے ۔چمکدار اور پوری طرح فریش جلد پانی کی زیادتی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے ہماری جلد سوکھی کشمش کی طرح مرجھا جاتی ہے۔کئی لوگ جب تک بہت زیادہ پیاس نہ لگ جائے تب تک پانی نہیں پیتے ایسا کرنا پوری طرح سے غلط ہے پیاس کا ذرا سا احساس ہونے پر بھی پانی پی لینا چاہئے کیونکہ جب ہمیں پیاس لگنا شروع ہوتی ہے تو اس سے کافی وقت پہلے ہی جسم میں پانی کا لیول نیچے جا چکا ہوتا ہے پیاس کو نظر انداز کردینے سے ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ دماغ پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔تو ہمارا جسم خ ون میں موجود پانی کو استعمال کرنے لگتا ہے ایسا ہونے پر خ ون میں آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے اور خ ون آہستہ آہستہ گاڑھا ہونے لگتا ہے اور گاڑھے خ ون سے بلڈ پریشر کا مسئلہ بھی ہوسکتا ہے اور بخار بھی آنے لگتا ہے اسی وجہ سے پانی کم پینے والے لوگوں کو سستی اور آلس بھی آنے لگتا ہے روکھی سوکھی جلد پانی کی کمی کی علامات میں سے ایک ہے پانی کی زیادتی اور کمی کا اندازہ جلد کے ذریعے آسانی سے لگایا جاسکتا ہے ۔چمکدار اور پوری طرح فریش جلد پانی کی زیادتی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔پانی کی کمی کی وجہ سے ہماری جلد سوکھی کشمش کی طرح مرجھا جاتی ہے۔کئی لوگ جب تک بہت زیادہ پیاس نہ لگ جائے تب تک پانی نہیں پیتے ایسا کرنا پوری طرح سے غلط ہے پیاس کا ذرا سا احساس ہونے پر بھی پانی پی لینا چاہئے کیونکہ جب ہمیں پیاس لگنا شروع ہوتی ہے تو اس سے کافی وقت پہلے ہی جسم میں پانی کا لیول نیچے جا چکا ہوتا ہے پیاس کو نظر انداز کردینے سے ہمارے جسم کے ساتھ ساتھ دماغ پر بھی بہت برا اثر پڑتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.