کس کوکتنا پانی پینا چاہیے ایک دن میں بس؟؟

آپ لوگوں نے عموماً ایک بات ضرور سنی ہوگی ۔

کہ انسان کو زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے ۔اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے۔ کہ زیادہ پانی پینے سے ہاضمہ ٹھیک رہتا ہے۔ جلد شگفتہ اور تروتازہ رہتی ہے۔ اور آپ کے جسم سے جڑی بہت سی خطرناک بیماریاں جڑ سے ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے ؟ کہ زیادہ پانی پینا آخر کتنا پانی ہوتا ہے ۔ دس گلاس، بارہ گلاس، چودھ گلاس یا پھر اٹھارہ گلاس ۔ آخر یہ بات ہمیں کس طرح سے پتہ لگے گی ؟ کہ کس انسان کو کتنا پانی پینا چاہیے۔ ایک بات توہم سبھی جانتے ہیں کہ کوئی بھی چیز کتنی بھی اچھی ہو اس کا ضرو رت سے زیادہ استعمال بجائے فائدے دینے کے نقصان ہی دے گا۔ اس لیے سوال یہ نہیں بنتا۔ کہ آپ کو کتنا پانی پینا چاہیے؟ بلکہ سوال یہ بنتا ہے کہ آپ کے جسم کو دن بھر میں کتنے پانی کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیونکہ جب بھی آپ اپنے جسم کی ضرورت سے بہت زیادہ یا بہت کم پانی پیتے ہیں۔ تو اس سے آپ کے جسم کو کیا نقصان ہوسکتے ہیں؟ لیکن سب سےپہلے یہ جاننا ضروری ہےکہ اگرہم جسم کی ضرورت سے بہت کم پانی پیتے ہیں۔ تو ڈی ہائیڈریشن، کڈنی سٹون یعنی گردے کی پتھری، قبض اور ڈرائی سکن جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں؟ بالکل اسی طرح جسم کی ضرورت سے بہت زیادہ مقدار پانی پینےسے بھی جسم میں سوڈیم کی مقدار کم ہونے لگتی ہے ۔ اور ہمارے گردوں پر اضافی بوجھ پڑنے لگتا ہے۔ جس کی وجہ سے جسم پر سوجن ، گردوں کی خرابی، باربار پیشاب کاآنااور پیشاب کے کنٹرول میں کمی جیسے مسائل دیکھنے پڑتے ہیں۔ دراصل ہمارے جسم کا سترفیصد حصہ پانی سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ جس میں سے پانی کا کچھ حصہ ہمارے پسینے ، پیشاب اور پاخانے کے راستے خارج ہوجاتا ہے۔ سانس لیتے ہوئے اور بات کرتے ہوئے منہ سے پانی خارج ہوجاتاہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جتنا پانی آپ کےجسم سے خارج ہوتا ہے آپ کو اتنا پانی ضرور پینا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کسی انسان کا جسم صرف ایک لیٹر پانی ہی خارج کرتا ہے۔ تو اس کے لیے ایک لیٹرپانی پینا ہی کافی ہوگا۔ لیکن اگر کسی انسان کے جسم سے تین سے چار لیٹر پانی خارج ہوتا ہے۔ تو اس کو اسی حساب یعنی کہ تین سے چار لیٹر پانی پینا چاہیے۔ پانی کی مقدار میں تھوڑی بہت کمی یا زیادتی ہو تو ہمارا جسم اسے انتظام کرلیتا ہے۔ لیکن جب ہم ضرورت سے زیادہ یا ضرور ت سے کم پانی پیتے ہیں۔ تو اس صورتحال کو ہمارا جسم مشکل سے ہی انتظام کرپاتاہے۔ عموماً لو گ دو طرح کے لائف اسٹائل گزارتے ہیں۔ ایک وہ لوگ جن کا زیادہ تروقت بیٹھ کرگزرتا ہے۔ دوسرے لو گ وہ ہوتے ہیں جو بہت زیادہ محنت کرتے ہیں۔ ن دونوں طرح کے لوگوں کے پانی کی ضرورت بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ پانی کا زیادہ استعمال اچھا ہوتاہے۔ لیکن جو پانی آپ پی رہے ہیں۔ اس کو برداشت کرنے کی طاقت بھی آپ کےجسم میں ہونی چاہیے۔ اس بات کو ہم اس مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر آپ کو کمرے میں زیادہ روشنی چاہیے ۔ تو تار کے ذریعے بلب کو زیادہ کرنٹ دینا ہی کافی نہیں ہوگا ۔ بلکہ کرنٹ کی سپلائی بڑھانے کے ساتھ ساتھ بلب کی طاقت کو بڑھاناہوگا۔ کیونکہ بلب کی طاقت بڑھائے بنا زیادہ کرنٹ دیاجائےگا۔ تو بجائے روشنی بڑھنے کے بلب ہی فیوز ہوجائےگا۔ بالکل ایسے ہی ہمارے جسم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنے چہرے کی تازگی کو برقراررکھنے کےلیے یا جسم سے بیماریوں کے اخراج کےلیے زیادہ پانی پیتے ہیں۔ تو آپ کو اس بات کا خیال ضرور رکھنا چاہیے؟ کہ جتنا پانی آپ پی رہے ہیں۔ اسے برداشت کرنے کی طاقت آپ کےجسم میں ہے یا نہیں ہے؟ جن لوگوں کا زیادہ تر کام بیٹھنے کا ہوتاہے۔ ان کا جسم سلوموشن میں چلا جاتا ہے۔ یعنی ان کی جسم سے جڑی ہر طرح کی ایکٹیوٹی سست رفتاری سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ دوران خ ون کم رفتار سے ہوتاہے۔ کھانا دیر سے ہضم ہوتاہے۔ اورپیاس کم لگنے کے ساتھ ساتھ جسم کا سارا سسٹم سلو کام کرتاہے۔ ایسے لوگ کے جسم میں برداشت کرنےکی طاقت بھی کم ہوتی ہے۔ اگر ایسے افراد ضرورت سے زیادہ پانی پی لیتے ہیں ۔ تووہ پانی ایک طرف سے جسم میں جاتا ہے۔ اور گردوں سے فلٹرہوکر پیشاب کے راستے خارج ہوجاتاہے۔ کیونکہ اس کے سسٹم میں پانی کو سٹور کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اور گردوں کے فیل ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ لیکن ایسے افراد جو بہت زیادہ فزیکل ایکٹیویٹی والے کام کرتے ہیں۔ ا نکے جسم میں ہر کام تیزی سے ہوتا ہے۔ پیاس زیادہ لگتی ہے۔ اور جسم میں قوت برداشت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایسے افراد جب زیادہ پانی پیتے ہیں۔ تو اس پانی کو ان کا جسم فوری طور پر جذب کرلیتا ہے۔

Sharing is caring!

Categories

Comments are closed.