”وسوسے اور ُبرے خیال بہت آتے ہیں کیا کروں“

میری یہ پریشانی ہے کہ مجھے نماز یا قرآن پڑھنے میں یا نہ پڑھوں تبھی سے بڑے وسوسے آتے رہتے ہیں۔ میں اپنی اس حالت سے بہت پریشان ہوں۔ ابھی کچھ دن پہلے کی بات ہے جب میں قرآن پڑھ رہی تھی تو اچانک قرآن کے بارے میں ایسے گندے خیالات آنے لگے کہ مجھے بیان کرتے ہوئے بھی گناہ کا ڈر لگتا ہے۔ معافی چاہتی ہوں، نماز میں بھی ایسے ہی بڑے گندے گندے خیالات اللہ اور نبی کے لیے خود بخود آتے ہیں۔ میری سوچ اور میرے دل میں ایسی باتیں نہیں ہوتی جیسے گندی بات نمازیا قرآن کو پڑھتے وقت آجاتی ہے۔

وسوسے ایسے تھے کہ قرآن کو پاوٴں سے لات ماردوں، قرآن کو شرمگاہ کے اوپر رکھوں، قرآن کے ساتھ سیکس کروں ایسی بکواس اور گندے خیالات آتے ہیں۔ میں بہت پریشان ہوں، واپس یا سوچ سوچ کر میرا دماغ ہمیشہ ڈسٹرب رہتا ہے ۔ مجھے ایسے خیالات اور ایسے وسوسے کیوں آتے ہیں؟ کیا میں اب ایک مسلمان نہیں رہی؟ یا کافر بن چکی؟ کیونکہ یہ سب کفر کے کلمات ہیں۔ جب ایسے خیالات آئے تو میں نے اپنے شوہر سے شیئر کیا تو انہوں نے کہا کہ دھیان مت دو یہ نفس تمہیں تکلیف دے رہا ہے، تم کو نماز یا قرآن پڑھنے سے روک رہا ہے، کیا ایسا ہوتا ہے؟ رمضان میں نفس ایسا کرسکتا ہے؟ شیاطین تو مقید ہو جاتے ہیں پھر ایسے خیالات کیوں آتے ہیں؟ براہ کرم مجھے بتائیں کہ کیا میں مسلمان ہوں یا ایسے خیالات اور وسوے کی وجہ سے کافر ہوگئی؟

آپ بدستور مسلمان ہیں، ان وساوس کی وجہ سے آپ ایمان سے خارج نہیں ہوئیں، ان وساوس کا علاج یہ ہے کہ جب بھی اس طرح کے وساوس آئیں آپ ان سے ذہن ہٹالیں اور شیطانِ مردود سے اللہ رب العزت کی پناہ مانگتے ہوئے ”أعوذ باللہ من الشیطان الرجیم“ وغیرہ پڑھ لیں، مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ ان مواقع پر ”آمنت اللہ“ پڑھ لینا چاہیے۔ (مسلم، رقم: ۱۳۴۰، باب بیان الوسوسة) اور کثرت سے اللہ کا ذکر کیا کریں یعنی چلتے پھرتے اور کام کے دوران بھی ذکر اللہ کا معمول بنائیں، ان شاء اللہ اس طرح کے وساوس نہ آئیں گے۔نوٹ: کسی شیخ طریقت سے شوہر کی اجازت کے بعد اصلاحی تعلق قائم کرلیں

Sharing is caring!

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published.